مرنے کے بعد بھی ‘مائیکل جیکسن’ الزامات کی زد میں

لاس اینجلس (اے ٹی ایم نیوز آن لائن) دنیائے موسیقی میں عالمگیر شہرت حاصل کرنے والے گلوکار’مائیکل جیکسن‘ پر بنائی گئی دستاویزی فلم میں ایک مرتبہ پھر ان پہ یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے مرتکب ہوتے تھے۔

امریکہ سے تعلق رکھنے والے غیرمعمولی شہرت کے حامل پاپ گلوکار پر یہ الزام ایک مرتبہ پھر اس وقت لگایا گیا ہے جب ان کے انتقال کو دس سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق امریکی چینل کی تیارکردہ دستاویزی فلم کی ریلیز کے بعد مختلف ریڈیو اسٹیشنوں نے مائیکل جیکسن کے گانوں کا بائیکاٹ کردیا ہے۔ بائیکاٹ کرنے والوں میں کینیڈا اور نیوزی لینڈ کے ریڈیو سٹیشنز بھی شامل ہیں۔

دستاویزی فلم کی ریلیز کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی تند و تیز جملوں کے تبادلے ہورہے ہیں۔

’لیونگ نیورلینڈ‘ نامی فلم کی کہانی دو ایسے کرداروں کے گرد ’بنی‘ گئی ہے جو اپنی عمر کے 40 سال گزار چکے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ مائیکل جیکسن نے ان سے اس وقت دوستی کی اورجنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جب وہ صرف سات اور دس سال کے تھے۔

فلم کے کردار یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ وہ پاپ گلوکار کی محبت میں گرفتار تھے۔

دستاویزی فلم میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ مائیکل جیکسن نے کمسن لڑکے کو جنسی افعال سرانجام دینے کے عوض زیورات دیے تھے۔ عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق یہ تباہ کن دستاویزی فلم امریکی ریاست یوٹاہ میں منعقد ہونے والے ’سن ڈانس فلم فیسٹیول‘ میں دکھائی گئی۔

مائیکل جیکسن کے لواحقین نے دستاویزی فلم میں کیے جانے والے دعوے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حرکت گلوکار کی شہرت سے فائدہ اٹھانے کی مذموم کوشش ہے۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ دستاویزی فلم بنانے والوں کا مقصد مالی فائدے کا حصول ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے ’وائس آف امریکہ‘ کے مطابق مائیکل جیکسن کے بھتیجے تاج جیکسن کا کہنا ہے کہ یہ مائیکل جیکسن کی دسویں برسی کا موقع ہے تو اس موقع پر ان کا سوگ منانے کے بجائے سفید جھوٹ بولے جارہے ہیں۔

عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق دستاویزی فلم کی تیاری کے لیے اُن کے خاندان سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔

جون 2009 میں دنیائے فانی سے کوچ کر جانے والے مائیکل جیکسن کے متعلق تیار کی جانے والی دستاویزی فلم میں شامل ویڈ رابسن اور جیمز سیفچک کا کہنا ہے کہ وہ جب دس سال کے تھے تو اس وقت معروف گلوکار نے انہیں اور ان کے خاندانوں سے دوستی کی تھی۔

پاپ موسیقی کے عظیم فنکار مائیکل جیکسن کی زندگی میں بھی ان پر اس قسم کے الزامات عائد کیے گئے تھے جس کا انہوں نے ہمیشہ انکار کیا تھا۔

عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق پولیس نے 2003 میں اسی قسم کے ایک الزام کی تفتیش کے لیے ان کے گھر پر باقاعدہ چھاپہ بھی مارا تھا۔

دلچسپ امر ہے کہ جب اس وقت عدالت میں مقدمہ کی سماعت ہوئی تھی تو ویڈ رابنسن کا نام گواہوں میں شامل تھا۔ انہوں نے اس وقت عدالت میں حلفیہ بیان دیا تھا کہ مائیکل جیکسن نے ان سے کبھی بدسلوکی نہیں کی۔

برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے مطابق گواہان کے حلفیہ بیان کی روشنی میں مقدمہ خارج ہو گیا تھا۔

ویڈ رابنسن نے 2013 میں بھی ممتاز گلوکار کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا کہ ان سے جنسی زیادتی کی گئی تھی مگر جج کا مؤقف تھا کہ وہ اس ضمن میں خاصی دیر سے رجوع کررہے ہیں۔

’لیونگ نیورلینڈ‘ نامی فلم کی ہدایات ڈین ریڈ نے دی ہیں۔

بی بی سی کے مطابق برطانوی اداکار مارک لیسٹر نے معروف پاپ اسٹار مائیکل جیکسن کے متعلق تیار کی گئی ڈاکو منٹری پر کہا کہ انہیں اس سے گھن آرہی ہے۔

مارک لیسٹر نے برطانیہ کے نشریاتی ادارے ’آئی ٹی وی‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ڈاکومینٹری سنسنی پھیلانے کے لیے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ مائیکل جیکسن نہیں ہے جسے وہ گزشتہ 30 برس سے جانتے ہیں اوریا یہ کہ جس سے ان کے بچے بھی واقف ہیں۔

برطانوی اداکار نے دعویٰ کیا کہ آئندہ تین سے چار ہفتے میں یہ خبرپرانی ہو جائے گی اور لوگ اسے بھول جائیں گے۔

مارک لیسٹر کے مطابق انہوں نے کبھی پاپ گلوکار کو اس طرح کی حرکت کرتے نہیں دیکھا۔ ان کے مطابق دستاویزی فلم دیکھ کر بھی ان کے ذہن میں عظیم فنکار کے متعلق جو تاثر تھا وہ تبدیل نہیں ہوا۔

عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق ’کنگ آف پاپ‘ کی شہرت رکھنے والے مائیکل جیکسن کی اسٹیٹ نے چینل فور کے شریک پروڈیوسراور امریکی چینل ایچ بی او کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا ہے اورمؤقف اختیارکیا ہے کہ ہرجانے کی رقم سو ملین ڈالر سے تجاوز کرے گی۔

بی بی سی کے مطابق الزام لگانے والے افراد رابسن اور جیمز سیف چک کا کہنا ہے کہ وہ صرف انصاف چاہتے ہیں اوران کا قطعی مقصد پیسے کا حصول نہیں ہے۔

’لیونگ نیور لینڈ‘ کی ریلیز کے بعد متعدد ریڈیو اسٹیشنوں نے مائیکل جیکسن کے گانوں کا بائیکاٹ کردیا ہے۔ بائیکاٹ کرنے والوں میں کینیڈا اور نیوزی لینڈ کے ریڈیو اسٹیشنز بھی شامل ہیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پربھی مائیکل جیکسن کے حق اور مخالفت میں تند و تیز پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔

پاپ اسٹارمائیکل جیکسن کی موت کے بعد اُن کی موسیقی کے ریکارڈ کی فروخت میں بے پناہ اضافہ ہوا تھا۔ ممتاز امریکی میگزین ’فوربز‘ نے اُنہیں موت کے بعد سب سے زیادہ منافع کمانے والے سپراسٹار کا درجہ دیا تھا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے