کچن میں آگ بھڑک اٹھے تو کیا کرنا چاہیے؟

لاہور (اے ٹی ایم نیوز آن لائن) کہتے ہیں کہ کچن کی سائنس کچھ الگ ہوتی ہے، کسی بھی دیگچی پر نظر جما کر کھڑے رہیں تو نہ دودھ ابلے گا نہ ہی کھانا جلے گا۔ نظر ہٹنے کی دیر ہوتی ہے اور دودھ بھی ابل جاتا ہے اور کھانا جل جاتا ہے۔

امریکی نیشنل فائر پروٹیکشن کے مطابق کچن میں آگ لگنے کے زیادہ تر واقعات جلتی ہوئی اشیا پر توجہ نہ ہونے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔جلتے ہوئے چولہوں پر نظر رکھنا آتش زدگی کے واقعات میں کمی لا سکتا ہے۔

باورچی خانے میں زیادہ تر واقعات گیس لیکیج کی وجہ سے ہوتے ہیں لیکن کچھ واقعات گِریس کے آگ پکڑ لینے سے بھی رونما ہوتے ہیں۔ چولہے پر یا برتنوں میں جمی گریس بھی آگ پکڑ لیتی ہے، اگر آپ کے ساتھ بھی کبھی ایسا ہو تو گھبراہٹ میں اس آگ پرپانی مت ڈالیے گا۔ پانی ڈالنے سے صورت حال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

پانی کی بجائے آگ کو کسی دھاتی ڈھکن سے ڈھانپ دینا زیادہ بہتر ہو سکتا ہے۔ اس طرح سے شعلے آپ کے ہاتھ کو یا ارد گرد کی کسی اور چیز کو لپیٹ میں لینے کی بجائے قابو میں آسکتے ہیں۔

گریس سے لگنے والی آگ کو بیکنگ سوڈا یا نمک کے ذریعے بھی ٹھنڈا کیا جا سکتا ہے۔ تجارتی بنیادوں پر چلنے والے کچن میں آگ بجھانے والے آلات کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔

ایسا ہی فرائنگ پین یا کسی اور برتن میں گھی زیادہ گرم ہونے کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے۔ برتن میں لگی ہوئی آگ کو چولہے سے اٹھا کر ادھر ادھر گھمانے سے شعلے مزید بھڑک سکتے ہیں۔

ماہرین اس کے لیے ایک مشورہ یہ بھی دیتے ہیں کہ کچن کی صفائی کے دوران چولہے، اوون، دیواروں اور برتنوں سے گریس کی صفائی کو یقینی بنانے سے بھی ایسی آتش زدگی سے بچا جا سکتا ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے