فروخت نہ ہونے والے بیش قیمت ملبوسات کا کیا جاتا ہے؟ جانیے

لاہور(اے ٹی ایم نیوز آن لائن) آپ کو اگر یہ خبر دی جائے کہ کچھ بڑے کاروباری نام اپنی فروخت سے بچ جانے والی مصنوعات کو آگ لگا دیتے ہیں تو آپ یقین نہیں کریں گے کیونکہ سننے ہی میں یہ کسی کے دیوانے کا خیال معلوم ہوتا ہے۔

دنیا میں ملبوسات کے بڑے برانڈز میں اپنے بنائے گئے مہنگے ترین ملبوسات کو آگ لگانے کے عمل میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔کمپنیاں یہ اس لیے کرتی ہیں کیونکہ ان کے نزدیک اپنے برانڈ کی انفرادیت قائم رکھنے کا یہ واحد اور کم قیمت طریقہ ہے۔ برانڈز اپنے بیش قیمت ملبوسات کو فروخت نا ہونے کی صورت میں ‘سیل’ میں سستے داموں بیچنے کی بجائے انہیں آگ لگا کر ختم کر دینے کو فوقیت دیتے ہیں۔

ملبوسات کا مشہور اور مہنگا ترین برانڈ ’بربری‘ ملبوسات کو آگ کی نذر کر دینے والوں میں سر فہرست ہے جس نے صرف 2017 میں 28.6 ملین یورو مالیت کے ملبوسات کو آگ لگا کر خاکستر کیا۔ ستمبر 2018 میں میڈیا کی جانب شدید تنقید کے بعد کمپنی نے اپنا یہ عمل فوری طور پر ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔

یونی ورسٹی آف لیڈز کے اسکول آف ڈیزائن کی نمائندہ پیمی سنہا نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بیش قیمت کپڑوں کو کم قیمت پر فروخت کرنے سے بہت سے نجے مسئلے کھڑے ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ ملبوسات کو آگ لگا دینے کے بہت سے منفی اثرات بھی ہوتے ہیں۔ اس عمل سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسوں کو اخراج ہوتا ہے جو گلوبل وارمنگ کے بڑھنے کا سبب بھی بنتا ہے۔

حال ہی میں ملبوسات کو آگ لگانے اور اس کے اثرات پر برطانیہ کی پارلیمینٹری کمیٹی کی جانب سے پیش کی گئی فیشن انڈسٹری اور اس کے مستقبل پر رپورٹ شائع کی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملبوسات کو آگ لگانے سے انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب کرنے والی فضائی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے، خصوصاً مصنوعی فائبر سے بننے والے کپڑوں کے جلنے کی نتیجے میں ماحول میں پلاسٹک مائیکرو فائبرز کا اخراج ہوتا ہے۔

رپورٹ میں تجویز دی گئی کہ حکومت کو دوبارہ قابل استعمال ہونے والے ملبوسات کو فروخت نا ہونے کی صورت میں انہیں جلانے یا محفوظ کرنے پر پابندی لگا دینی چاہیے۔ جارجیا اسٹیٹ یونی ورسٹی کی الزبتھ نیپیئر کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں سالانہ 100 ارب ملبوسات تیار کیے جاتے ہیں جن میں سے 9 کروڑ 20 لاکھ لباس فروخت نہیں ہو پاتے۔

ڈیزائنر سنہا کا کہنا ہے کہ ہمیں اس حوالے سے مارکیٹ کی ڈیمانڈ کو دوبارہ سے دیکھنا ہو گا اور پھر اسی حساب سے ملبوسات تیار کرنے چاہئیں۔ صارف کو مد نظر رکھتے ہوئے ملبوسات تیار کرنے والے برانڈز مارکیٹ کے مزاج کے مطابق چلتے ہیں۔ اگر ماحول کی حفاظت ہر خاص و عام کے لیے معنی رکھنا شروع ہو جائے تو ان برانڈز کو بھی اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے ملبوسات تیار کرنے پڑیں گے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے