“گھی” ہضم نہ ہو سکا !

رانا علی زوہیب
جگنوؤں کے دیس سے

ایک محاورہ زبان زد عام ہے کہ ” کتے کو کبھی گھی ہضم نہیں ہوتا”
پہلی دفعہ جب یہ محاورہ سنا تو اپنے استاد کے پاس گیا اور پوچھا کہ “استاد جی” اسکا مطلب کیا ہے کہ کتے کو کبھی گھی ہضم نہیں ہوتا ؟
استاد صاحب نے بڑی شفقت سے میری طرف دیکھا اور کہا کہ ” بیٹا کتا ہمیشہ گند کھاتا ہے ، گلے سڑے جانوروں کا گوشت کھاتا ہے ، مردار کھاتا ہے تو جب کبھی وہ کسی گھر میں گھس جائے اور غلطی سے گھی کھا لے تو اسکو وہ ہضم نہیں کرسکتا ، کچھ دیر بعد الٹیاں شروع کردیتا ہے ” میں نے ان سے پوچھا کہ استاد جی ” پھر یہ محاورہ ہم عام زندگی میں کیوں استعمال کرتے ہیں‌؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ “بیٹا کچھ انسانوں کی فطرت ہوتی ہے کہ جب انکے پاس کچھ نہیں ہوتا تو وہ اپنی اوقات میں رہتے ہیں جیسے ہی انہیں کوئی عہدہ ، دولت انکے پاس آتی ہے تو اس نشے میں اپنی اصلی اوقات بھول جاتے ہیں اور الٹی سیدھی حرکتیں کرنا شروع کردیتے ہیں جسکی وجہ سے اس انسان کو کتے سے تشبیہ دینا لازم ہوجاتا ہے کیونکہ وہ کام ہی ایسے کرتا ہے جیسے وہ جانور کرتا ہے ”

استاد صاحب کی بات سن کر گھر آیا اور سوچا کہ کیوں نہ تجربہ کرلیا جائے ، ہمارے گھر میں ایک کتا تھا جو پالتو تھا ، اسے گھر کی روٹی کھلائی جاتی تھی ، دودھ پلایا جاتا تھا اور کبھی کبھار مرغی کا گوشت بھی کھلایا جاتا تھا ….. استاد صاحب کی بات زہن میں لیے جب تجربے کی سوجی تو ماں سے کہا کہ دیسی گھی سے ایک ایسا پراٹھا تیار کریں کہ پراٹھے سے گھی ٹپک رہا ہو ، ماں نے بنادیا تو وہ پراٹھا کتے کو کھلا دیا ، جیسے ہی کتے نے پراٹھا کھایا تو اسکی نظروں سے ایسے لگ لگ رہا تھا کہ جیسے وہ آج کسی نئی دنیا میں آگیا ہے ، دم ہلا کر پاؤں چاٹ چاٹ کر شکریہ ادا کرنے لگا ……… ایک سے ڈیڑھ گھنٹے کا وقت ہی گزرا تھا کہ ہمارے پالتو کتے نے الٹیاں کرنا شروع کردی اور جو پراٹھا اس نے کھایا تھا وہ باہر اگل دیا …………. تب استاد صاحب کی بات کو سچ مان لیا کہ کتے کو گھی ہضم نہیں ہوتا کہ وہ اس گھی کا عادی نہیں ہوتا …..

بدقسمتی سے ہمارے ملک میں کچھ وزرا ایسے مسلط کر لیے گئے ہیں کہ جنکو گھی(وزارت) ہضم نہیں ہو رہی اور جوش خطابت میں ایسے ایسے الفاظ ادا کر جاتے ہیں کہ جنکا خمیازہ بھگتنا آسان ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوجاتا ہے …. نئی وزارت اور طاقت کا نشہ ہی کچھ اور ہے ، اس طاقت اور وزارت میں اپنی اصلی اوقات بھول جاتا کوئی پنجاب کے انفارمیشن منسٹر جناب عزت مآب فیاض الحسن چوہان سے سیکھے …. ایک تقریب کے دوران ہندو برادری کو اپنے تیزوتند الفاظ کے نشستر سے گھائل کرتے ہوئے یہ بھول گئے کہ وہ کسی مذہب کی توہین کر رہے ہیں کسی انسان کی نہیں … آگے بڑھنے سے پہلے خدا تعالیٰ کا ایک فرمان جو انہوں نے قرآن پاک میں فرمایا اسکو بیان کیے دیتا ہوں‌ ، اللہ تعالیٰ سورۃ الاانعام کی آیت نمبر 108 میں واضع احکام فرمایا
” وَلاَ تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدْوًا بِغَیْرِ عِلْمٍ: ’’ اور مت گالیاں دو (یا مت برا بھلا کہو) ان کو جنہیں یہ پکارتے ہیں اللہ کے سوا، تو وہ اللہ کو گالیاں دینے لگیں گے زیادتی کرتے ہوئے بغیر سوچے سمجھے۔،،
یعنی کہیں جوش میں آ کر ان کے بتوں کو برا بھلا مت کہو، کیونکہ وہ ان کو اپنے معبود سمجھتے ہیں، ان کے ذہنوں میں ان کی عظمت اور دلوں میں ان کی عقیدت ہے، اس لیے کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ غصے میں آ کر جواباً اللہ کو گالیاں دینے لگ جائیں۔ لہٰذا تم کبھی ایسا اشتعال آمیز انداز اختیار نہ کرنا …
جس طرح ہر کوئی اپنے عقیدے میں خوش ہے اسی طرح یہ مشرکین بھی اپنے بتوں کی عقیدت میں مگن ہیں۔ ظاہر بات ہے وہ اُن کو اپنے معبود سمجھتے ہیں تو اُن کے بارے میں اُن کے جذبات بھی بہت حساس ہیں۔ اس لیے آپ انہیں مناسب انداز سے سمجھائیں، انذار، تبشیر، تذکیر اور تبلیغ وغیرہ سب طریقے آزمائیں، لیکن ان کے معبودوں کو برا بھلا نہ کہیں ۔

انڈیا پاکستان کی کشیدہ صورت حال نے پیش نظر دونوں طرف کے لوگ ایک دوسرے پر تنقید بھی کر رہے ہیں اور الزامات کی بارش بھی کر رہے ہیں لیکن کہیں سے انڈیا کی طرف سے یہ نہیں کہا گیا کہ ” مسلمانوں” نے انڈیا پر حملہ کیا ، مسلمانوں نے یہ کیا ، مسلمانوں کو غلط نہیں کہا گیا بلکہ پاکستان کا لفظ استعمال کیا گیا ، بالکل اسی طرح جنگ اور کشیدہ صورت حال انڈیا پاکستان کی ہے نہ کہ ہندو مسلم ، اگر ہندو مسلم مذہبی جنگ ہے تو اٹھائیں تلوار ، اسلامی اصولو‌ں کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلے دعوت دیں ، دعوت قبول نہ ہو تو لشکر تیار کریں اور دھاوا بول دیں ہندوستان پر …. لیکن مزہ تب آئے اگر اس لشکر کو فیاض الحسن چوہان لیڈ کررہا ہو ….

میڈیا پر آکر گولہ باری ہر کوئی کر سکتا ہے لیکن فیاض الحسن چوہان یہ بھول گیا کہ اگر آج میں ہندؤں کو گالی دے رہا ہوں تو بدلے میں وہ میرے پاک مذہب اسلام کو گالی دیں گے اور اس سے بڑی بدنصیبی کیا ہوگی کہ خود کے کہے ہوئے الفاظ دنیا و آخرت میں شرمندگی کا باعث بن جائیں …. فیاض الحسن چوہان شاید یہ بھول گیا کہ اسکی پارٹی میں ایک ہندو سینیٹر ” ڈاکٹر رامیش کمار ” ہے ، اسکے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی کی اہم رہنما “سینیٹر کرشنا کماری” جسکا مذہب بھی ہندو ہے ، پی ٹی کی اہم رکن شنیلہ روت بھی پاکستان کی سیاست میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں. پی ٹی آئی کے رہنما لال چند بھی حکومتی بنچوں پر بیٹھے ہیں .

دفتر خارجہ کا بیان اور پاکستان تحریک انصاف کی بروقت کاروائی ایک نوٹس کی شکل میں کوئی اہیمت کے حامل نہیں ہے !
فیاض الحسن چوہان جیسے منہ پھٹ وزرا کو فوری طور پر وزرات سے ہٹاکر عمران خان کو چاہیے کہ اقلیتی برادری میں اپنا مقام جو ہے اسے برقرار رکھنے کی ایک کوشش کریں …. ورنہ وہ دن دور نہیں جب ان جیسے وزرا کی وجہ سے پاکستان کا نام بھی خراب ہوگا اور پاکستان جیسا ملک جو اقلیتوں کے حقوق کا عملمبردار مانا جاتا ہے کسی کو منہ دکھانے کے قابل نیں رہے گا ….

عمران خان نے اپنی کابینہ میں ایسے افراد کو بھی شامل کرلیا ہے جنہوں نے شاید کبھی خواب میں بھی وزارت کا نہیں سوچا تھا …. مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دینے والوں میں پاکستان شامل نہیں ہے اور نہ ہمارا مذہب اس بات کی اجازت دیتا ہے…

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے