جذبات سے نکلو

افضل سیال
ضرب افضل

انڈین پائلٹ کو چھوڑنا اچھی سفارتکاری ہے، عمران خان کا اقدام قابل تحسین ہے، پوری دنیا میں جو مسیج گیا اس سے پاکستان کوفائدہ ہی ہو گا نقصان نہیں، انڈیا پاکستان ستر سال سے دشمن ہیں، “نتیجہ کیا نکلا دشمنی” خوفناک امر یہ ہے کہ یہ دشمنی دونوں ملکوں کے عوام کو فروخت کی جاتی ہے اور یہ ایسا پرافٹ والا کاروبارہے جو دونوں ملکوں کے میڈیا کے ذریعے نظریے اور مذہب کا تڑکا لگا کر بیچا جا رہا ہے ، دنیا بہت آگے نکل چکی ، اب معاشی جنگیں لڑی جا رہی ہیں ،ہمیں اس دشمنی سے نکلنا ہے، دونوں ایٹمی ملک ہیں جنگ کا سوچنا بھی حماقت ہے، یہ بزدلی ،دلیری بہادری، جنگجو لڑاکو وغیرہ کے لقابات پرانے ڈھکوسلے اور بوسیدہ ہو چکے،

ہمیں پرانی روش سے نکلنا ہے ، اگرہماری طرف سے ہی فیصلہ کر لیا گیا ہے امن کا تو یہ قابل تحسین اقدام ہے ، کیونکہ نواز شریف سمیت بہت سے سویلین حکمران انڈیا دشمنی ختم کرنے کے جرم میں غداری کا لقب لے چکے ، چلو دیر آئے درست آئے ، پاکستانی اور انڈین قوم کتاب اور تاریخ سے بہت دور ہیں ہمارے تعلیمی سلیبس میں 70 فیصد جھوٹ اور من گھڑت بھوسا بھرا پڑا ہے ، ہمیں جنگ کے نتائج کا اندازہ ہی نہیں ، جب کسی چیز کے نتائج کا اندازہ نہیں ہوتا تو انسان یہی رویہ اپنانا ہے جو میں بھارتی پائلٹ ابھی نندن ونگ کمانڈر کے چھوڑنے پر سوشل میڈیا پر دیکھ رہا ہوں

تھوڑی سے سوجھ بوجھ رکھنے والا انسان بھی سمجھ رہا ہے کہ موجودہ پاکستان بھارت کشیدگی انڈین الیکشن کی وجہ سے ہے ، ورنہ پانچ سال سے مودی جیسا پاگل ہندو انڈیا کا حکمران تھا لیکن ایسے حالات نہیں بنے ، اب اسکو پاکستان دشمنی کا چورن ووٹ بٹورنے کے لیے چاہیے تھا اس لیے اس نے یہ کشیدگی کا ترنگ پتہ کھیل دیا ، پاکستان بھارت کے عوام دشمنی کے حق میں نہیں لیکن ہمیں زبردستی دشمن بنایا ہے دونوں جانب کی حکومتوں نے “عقلمندی کا تقاضا امن اور جہالت کا جنگ” !
جذبات سے نکلیں اپنے وزیر اعظم اور امن کا ساتھ دیں، ورنہ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے