بدترین مفلس

رشید یوسفزئی
آوارہ خیالات

گزشتہ روز ایک نوجوان نے اپنے تبصرے میں شکایت کی کہ اردگرد کے تمام لوگ اسکے ذوق مطالعہ کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں کہ کتاب بینی ایک عبث عمل ہے(مطلب کتابیں پیسہ کمانے کا زریعہ نہیں) اور کتابیں پڑھ کے کیا ہوگا ؟ وقت ضائع ھوگا بس؟ میں نے اس بھائی کو ایک دو جملوں میں کہا کہ متعلقہ لوگوں کے پاگل ہونے پر ایمان لاؤ اور رد عمل میں مطالعہ اور زیادہ وقت خلوص نیت اور محنت سے کرو۔۔۔
سارے ملک میں نوجوانوں کی یہی ذہن سازی کی جارہی ہے کہ کتاب، فکر اور ذہنی محنت، تضیع اوقات ہے. جس طرح بھی ہو پیسہ پیدا کرو، عزت اور ناموس عیش و سہولیات پیسے کے ساتھ بونس میں ملیں گے. جب کے ترقی یافتہ معاشروں کا طرز عمل اس کے برعکس ہے. وہاں ذہنی و فکری دولت ہی مادی عروج کا زینہ ہے

معاشرہ فکری اور ذہنی طور پر دیوالیہ پن کا شکار ہے. مجموعی طور پر ہم نوٹوں، سکوں اورکرنسی کو ہی اہم سمجھتے ہیں….. اور عزت کے فریب دہ سکوں میں اپنی حقیقی اور داخلی وقعت کھو چکے ہیں ، اجتماعی زندگی کے سفر میں یہ انتہائی خوفناک موڑ ہے

روڈیارڈ کپلنگ Rudyard Kipling نے اپنے ایک دولت پرست دوست کو تحدید کرتے ہوئے لکھا تھا:
Some day you will meet a man who cares for none of these things (money, position, glory), then you will know how poor you are!
کسی دن تم ایک ایسے شخص سے ملوگے جو دولت، عہدے، شان و شوکت جیسے فریب دہ چیزوں سے بے نیاز ہو. پھر تمہیں اندازہ ہوگا کہ تم کتنے بدترین مفلس ہو! اور ذہنی افلاس سب سے ذلت آمیز اور دردناک غربت ہوتی ہے.

دنیا کے بادشاہ ، صدور، وزرائے اعظم وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر کی دو دقیقہ مہمان نوازی کیلئے مرتے ہیں…… ایک پاکستانی مذہبی لیڈر اور قائد ملت اسلامیہ نے ایک بار کہا، “مجھے ایک دعوت دے دیں وہاں وائیٹ ہاوس میں بیشک مجھے ماں بیوی کی گالی دے لیجے گا”
اوباما وائٹ ہاؤس بارے رپورٹس میں میں نے کہیں پڑھا تھا کہ ایک بار باراک اوباما نے پیرس سے ایک مشہور سموسے بنانے والا pie-maker باورچی کوتنخواہ پر رکھا اور کچھ دن بعد صدر ایک نوجوان انگریزی ادیب کو بطور اعزاز وائٹ ہاؤس مدعو کیا تاکہ اس کک کے ہاتھ سے اس کی خصوصی تواضع کرے.

اگر کوئی اسلامی دنیا کا بادشاہ ، وزیر اعظم ، یا فوجی جرنیل ہوتا تو سر کے بل خوشی خوشی جاتا، اور تصاویر بنوا کر حکومتی ایوانوں کی زنیت بناتا،اور پوری دنیا کا میڈیا اسکی یہ تصاویر نشر کرتا، لیکن نوجوان ادیب نے معذرت کرتے ہوئے جواب دیا کہ وائٹ ہاؤس میں آنے جانے میں اتنا وقت ضائع ہوگا جس میں وہ ایک چھوٹی کتاب پڑھ سکتا ہے!

قرآن کے سب سے اعلی ادبی تفسیر کشاف کے مصنف محمود جاراللہ زمخشری معتزلی کی علمی مقام کا اندازہ ایک مشہور عربی ضرب المثل سے کیا جاتا ہے کہ قرآن کو نہیں سمجھا الا لاعرجان مگر دو لنگڑے ایک المفردات کے مصنف امام راغب اصفہانی اور دوسرے محمود جاراللہ زمخشری معتزلی….. دونوں لنگڑے تھے.

خلیفہ وقت نے محمود جاراللہ زمخشری معتزلی کے علمی قدر و منزلت کے زیر نظر ان کو اعزاز کے طور پر دربار میں آنے کی دعوت دی. شاہی ایلچی جب محمود جاراللہ کے گھر پہنچ گیا اس وقت امام الاعتزال اپنے کتابوں سے گرد جھاڑ رہے تھے. ایلچی نے شاہی دعوت نامہ پہنچایا تو زمخشری نے جواب دیا “میں کتابوں کے گرد جھاڑنے کو خلیفہ بننے سے زیادہ عزیز سمجھتا ہوں. جا خلیفہ سے کہہ محمود کو کتاب جھاڑنے سے فرصت نہیں.” اور شعر میں اپنے احساسات کہے:

الزمن نقر الفتاہ لدفہا نقدی لالقی الرمل عن اوارقی
کتاب کی گرد کی بد بو وائٹ ہاؤس کے مشک و عنبر کی خوشبؤوں سے زیادہ لذت دہ ہے! لیکن تندرست ادارک و احساس شرط ہے.

Show More