“پنجابی بربریت”

رشید یوسفزئی
(حرف اغاز: سوائے کتاب کی تعارف و پس منظر کے، عنوان سے لیکر اختتام تک راقم کی رائے شامل نہیں. اقتباسات کی ترجمے کیلئے اپنے انتہائی ناقص اردو کی معافی چاہتا ہوں)
مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر، صدر اور کمانڈر انچیف جنرل آغا یحییٰ محمد خان نے پاکستان میں عام انتخابات کا اعلان کیا. دسمبر 1970 میں نیشنل اسمبلی کے 313 نشستوں کیلئے ملک گیر انتخابات کا انعقاد ہوا. حسین شہید سہروردی کی قائم کردہ مشرقی پاکستان کی عوامی لیگ جس کی قیادت سہروردی کی وفات پر شیخ مجیب الرحمٰن کر رہے تھے، نے 167 نشستیں جیت لئے. مغربی پاکستان کے ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلزپارٹی نے مغربی پاکستان کے 138 میں صرف 81 نشستیں حاصل کئے. الیکشن کے نتائج یحییٰ اور بھٹو دونوں کیلئے مایوس کن تھے. آئینی طور پر شیخ مجیب الرحمٰن کو حکومت بنانے کا حق تھا. ادھر یحییٰ خان اور بھٹو کے خواب برباد ہورہے تھے. طویل ٹال مٹول کے بعد یحییٰ نے اسمبلی کا اجلاس بلانے کا اعلان کیا تو بھٹو نے اعلان کیا کہ “جو ممبر ڈھاکہ اجلاس شرکت کے لئے گیا اس کے پاؤں توڑ دوں گا.” حالات بگڑتے گئے. عوامی لیگ کے سربراہ نے اپنے مشہور زمانہ چھ نکات پیش کئے تھے. مجیب اور عوامی لیگ ان پر آڑے رہے. بجائے مفاہمت اور عوامی لیگ کے عوامی حق کے تسلیم کرنے کے جنرل آغا یحییٰ محمد خان نے 25 مارچ 1971 کو بنگلہ دیش میں آپریشن شروع کی. حکومت کے پنجابی افسران اور جماعت اسلامی پنجاب کے مقدس قصائیوں بنگال کے مسلمانوں پر وہ مظالم ڈھائے جس کے ضبط تحریر میں لانے کیلئے دانتے کا قلم چاہیے اور چنگیز خان کا دل.

امریکی صدر رچرڈ نکسن جس نے واٹر گیٹ سکینڈل، ویت نام اور بنگلہ دیش میں اپنے گھناؤنے جرائم اور سیاہ ماضی کو چھپانے کیلئے اور چرچل اور ڈیگال کے صف میں شامل ہونے کیلئے کتابیں لکھنے کا سہارا لیا، سقوط ڈھاکہ کے وقت وہائٹ ہاؤس کے مالک تھے……..اپنے کتاب Leaders میں جنرل ضیاء کی تعریف کرنے والا یہ واحد مصنف لیڈر ہے!…….. نکسن جنون کی حد تک روس و اشتراکیت دشمن تھا…. ساتھ ساتھ روس دشمنی کے طور پر چین سے تعلق قائم کرنے کی خبط میں جنرل یحییٰ خان کا عاشق بھی. نکسن جنرل یحییٰ کو Splendid Product of The Sandhurst اور The most decent and intelligent leader کہتا تھا. چین سے تعلق بنانے کیلئے خفیہ ساز باز کرنے اور انڈیا کو روس نوازی کی سزا دینے کیلئے نکسن نے پنجابیوں کے ہاتھوں 35 لاکھ بنگلہ دیشی مسلمانوں کے قتل عام میں بھر پور مالی و اخلاقی کردار ادا کیا. نسل کشی کے اس طویل عرصے میں ڈھاکہ میں تعینات کیرئیر سفارت کا ارچر بلڈ Archer Blood نے اپنے آنکھوں دیکھے حال کی بناء پر اپنی حکومتی پالیسی پر سخت احتجاج کیا. اس وقت قونصل خانہ میں تعینات پولیٹیکل افسر Scot Butcher اور ڈیویلپمنٹ کے انچارج Killgore( حسن اتفاق یا سوء اتفاق سے تینوں کے نام Blood, Butcher, kill خون، قتل اور قصائیوں کے اس فضا میں عجیب لگ رہے ہیں) کیساتھ قونصل جنرل ارچر بلڈ نے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو ایک خط لکھا جو بلڈ ٹیلگرام Blood Telegram کے نام سے شہرت پا گیا. امریکی عوام میں رچرڈ نکسن اور ھنری کسنجر کی پاکستانی پالیسی کے خلاف اس خط نے ھنگامہ برپا کیا. اس خط کے نتیجے میں بلڈ اور بوچر کے کیریئر تباہ کئے گئے. تاہم ضمیر کی آواز بلند کرنے پر انسانی دنیا میں بلڈ کو اس ٹیلگرام پر ابھی تک خراج تحسین پیش کی جاتی ہے. بنگال مسلئے میں بھر پور امداد کے بدلے یحییٰ خان نے چین سے ھنری کسنجر کے روابط قائم کئے. روس و چین کے خراب تعلقات کے اس فضاء میں روس کے خوف سے سارے معاملے کو چھپانے کیلئے حکومت پاکستان نے عجیب ڈرامہ کیا. پاکستانی وزارت خارجہ نے امریکی نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر ھنری کسنجر کے پیٹ کے خرابی کا ڈرامہ رچایا اور اسکی سفارتی سرگرمیوں کی معطلی اور نتھیاگلی میں جنرل یحییٰ کے گھر قیام کا اعلان کیا. جبکہ درپردہ نماز فجر کے دوران تاریکی میں پی آئی اے فلائٹ نمبر 707 کے ذریعے کسنجر چو این لائ سے ملاقات کیلئے چین پرواز کر گیا.

بنگال قتل عام میں پاکستانی اور امریکی کردار خوفناک بھی ہے اور المناک بھی. پاکستان میں اس حوالے سے حمود الرحمن کمیشن رپورٹ کی حشر سے دنیا واقف ہے. امریکہ میں ھنری کسنجر نے بنگال بارے اپنے ذاتی روداد پر سٹیٹ سیکرٹ State Secret کے اصول کی تحت پابندی لگائی ہے. اور صدارتی تصدیق کے مطابق یہ دستاویزات ھنری کسنجر کے وفات کے پانچ سال بعد پبلک کئے جائیں گے. تاہم کچھ دستاویزات، ٹیپ ریکارڈز کی قابل رسائی وہائٹ ہاوس حصے کیساتھ، امریکی اہلکاروں، بنگالی لیڈرز، پاکستانی فوجی حکام اور سیاست دان اور بھارتی سیاست دان و فوجی افراد تک رسائی اور تمام متعلقہ کتب، مجلات، اخبارات اور دستاویزات کی چھان بین پر ایک طویل عرصے تک تحقیق کرنے کے بعد امریکی محقق گیری باس Gary J Bass نے چار سال قبل انہیں The Blood Telegram کے نام سے ایک جامع کتاب کی شکل میں شائع کیا. مصنف نے بے لاگ انداز میں متعلقہ امریکی اداروں اور اربابان بست و کشاد کو مجرم قرار دیا ہے. کیا پاکستان میں ایسی کسی تحقیق کا تصور تک ممکن ہے؟ خود محاسبہ اور اپنی تاریخ کے طور پر یہ کتاب مطالعہ پاکستان کے حقیقت پسند کسی بھی طالب علم کیلئے ایک گونہ حرف آخر ہے. ذیل میں بنگال میں تعینات پنجابی افسران اور جماعت اسلامی کے قصائیوں اور غنڈوں کے کردار کے حوالے سے چند اقتباسات کا ترجمہ پیش کیا جاتا ہے.

کتاب کے تمہید میں بنگال قتل عام بارے مصنف لکھتا ہے:
In the annals of modern cruelty the genocide in Bengal ranks bloodier than Bosnia and by some accounts in the same league as Rwanda.
جدید مظالم کی تاریخ میں بنگال کی نسل کشی بوسنیا سے زیادہ خون ریز ہے اور روانڈا کی برابر ہے……. آگے چل کر مصنف ایسے ھولوکاسٹ سے کافی بڑھ کر ثابت کرتا ہے.

ڈھاکہ یونیورسٹی پر کچھ پنجابی افسر حملہ آور ہوئے….
The provost of the Hindu dormitory, a respected scholar of English was dragged out of his residence and shot in the neck by a Punjabi officer. Six other faculty members were killed by the same officer……afterwards dozens of students were mowed down by his troops.
ھندو ھاسٹل کا پرووسٹ جو انگریزی کا ایک قابل قدر سکالر تھا گھر سے گھسیٹ کر نکالا گیا. ایک پنجابی افسر نے گردن میں گولی مار دی. چھ اور پروفیسروں کو اسی افسر نے قتل کیا اور اسکے بعد یونیورسٹی کے درجنوں طالب-علموں کو گھاس کے طرح کاٹا گیا.
خود قونصل جنرل ارچر بلڈ نے یونیورسٹی میں آنکھوں دیکھا حال یوں بیان کیا ہے:
At least two mass graves on campus. Stench terrible. There were 148 corpses in one of the mass graves……… At least 500 hundred students had been killed in the first two days of the crackdown.
یونیورسٹی کیمپس میں دو اجتماعی قبریں تھے. ایک میں 148 لاشیں تھے. کریک ڈاؤن کے دو دن میں پانچ سو طالب-علم قتل کر دئے گئے.
سی ایس ایس کورس میں شامل بنگالی مصنف جی ڈبلیو چوہدری نے اپنی کتاب The Last Days of United Pakistan میں خود آپریشن کے کمانڈر جنرل امیر عبداللہ خان نیازی کا اعتراف نقل کیا ہے:
A display of stark cruelty, more merciless than the massacares………by Changes(Genghis) Khan.
بنگال میں (ٹکا خان) نے نری ظالم کا مظاہرہ کیا. چنگیز خان سے بھی بے رحم قتل عام کی.
ایک ملٹری سٹیشن پر فوجی واپس آئے تو بریگیڈیئر نے جو خود عصر کے نماز سے سلام پھیرنے کے بعد جائے نماز پر بیٹھا تھا، پنجابی میں سوال کیا:
How many Bengalis have you shot since Zuhar?
نماز ظہر کے بعد آپ نے کتنے بنگالی قتل کئے؟
سرکاری اہلکاروں سے زیادہ بے رحم قتل جماعت اسلامی کے البدر اور الشمس بریگیڈز نے کئے. مقدس قاتلوں نے صرف 35 ھزار سکالرز اور دانشور تہ تیغ کئے. البدر بریگیڈ کے ایک کمانڈر نے ایک پرائمری سکول میں 108 بچے قتل کئے. بچوں کا مسلمان استاد بے بس کھڑا دیکھ رہا تھا. کمانڈر سے پوچھا
Where is you Islam?
تمہارا اسلام کدھر گیا؟
کمانڈر نے جواب دیا
Islam disappeared in your arse!
اسلام تمہارے مقعد میں غائب ہوا. اور استاد کو مار کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا.
البدر کے مؤمنین چٹاگانگ کے ایک مسجد پر حملہ آور ہوئے جہاں ایک نکاح کی رسم جاری تھی. دلہا اور مولوی سمیت سب کو قتل کیا اور دلہن کے گھر پر چھڑ دوڑے. دلہن کوبرہنہ کرکے ریپ کیا. جتھے کی کمانڈر نے ایک اری سے دلہن کے پستان کاٹ دئے. اس کے بعد اس کے انگلیوں پر سونے کی ایک انگوٹھی پر نظر پڑھی تو تڑپتے ہوئی لاش کی انگلیاں بھی کاٹ دئے. دلہن نے اذیت میں سانس دیتے ہوئےچیخ کیساتھ کلمہ طیبہ کہا تو مجاہدین کے کمانڈر نے اسکی منہ میں اسکی کاٹی گئی پستان دے ماری.

نیویارک ٹائمز کے نمائندے شانبرگ Sydney Schanberg جس کو واقعیت پر مبنی رپورٹنگ کی بنا پر بعد میں حکومت پاکستان نے ملک بدر کیا( اس سے ایک دفعہ پوچھا گیا پاکستان اور انڈیا میں کیا فرق ہے؟ اس نے جواب دیا: پاکستان اسکے خلاف لکھنا تو در کنار حقیقت لکھنے پر. انڈیا ایسا نہیں کرسکتا) نے نیویارک ٹائمز کو پنجابی مظالم کے رونگٹے کھڑے کرنے والے واقعات بھیجے. یتیم شدہ بارہ سال عمر کے بنگالی بچے بھی مغربی پاکستان کے خلاف لڑنے لگے تھے . ایسے ہی ایک لڑکے سے شانبرگ نے گفتگو کی:
They have made me orphan. My life is unimportant now. They raped my mother and sister before my eyes and then killed them.
انہوں نے مجھے یتیم کیا. اب میری زندگی کی کوئی اہمیت نہیں. انہوں نے میرے آنکھوں کے سامنے میری ماں اور بہن سے زنا کرکے انکو قتل کیا.
ایک سیاسی موڑ پر یحییٰ خان نے ورلڈ بینک کے ایک وفد کو بنگال دورے کی اجازت دی. ورلڈ بینک کے سینئر ماہرین نے اپنے رپورٹ میں لکھا:
In all cities visited there are areas that have been razed; and in all districts visited there are villages which have simply ceased to exist.
جس شہر بھی وفد گئی وہاں ہموار کئے گئے علاقے ہیں. ہر ضلع میں کچھ گاؤں بکل معدوم کیے گئے ہیں.
– – – – – – – – – – – – – – – – – – – –
مطالعہ پاکستان میں یہ روایت کافی دہرائی جاتی ہے کہ بنگلہ دیش مسئلے کی دوران امریکہ نے ہماری مدد نہیں کی. مصنف نے دلائل کیساتھ ثابت کیا ہے کہ نہ صرف امریکی صدر نے دوران جنگ سینکڑوں ملین ڈالرز امداد پاکستان بھیج دی تھی بلکہ امریکی قانون کو پاؤں تلے روندتے ہوئے امریکی میڈیا کو پاکستان کیلئے جھوٹا پروپیگنڈہ کیا، دو سو ملین کے پرزے سینٹ کے پابندی کے باوجود دسمبر کی اوائل میں دئے اور اردن سے سترہ جنگی جہاز اور ایران سے بیس جہاز بھی بھیج دئے. جبکہ چواین لائی بھڑکیں مارنے کے بعد عین اختتامی مرحلے کے دوران بھاگ گیا. مصنف نے بعد میں پاکستانی وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی امریکی امداد کی تسلی بخش ھونے کی گواہی بھی نقل کی ہے.
مصنف ایک جگہ لکھتا ہے کہ مجاہدین اسلام کو ایک آتش پرست جنرل سام مانک شاہ بھارتی فوج کے سربراہ، ایک سکھ جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ جی او سی ایسٹرن کمانڈ اور اروڑہ کی ماتحت ایک یہودی جرنل جیکب فرانز جیکب نے شکست دی.

سقوط ڈھاکہ کے وقت بھارتی فوج کی وہاں تعداد دوسو تھی جبکہ امیر عبداللہ خان نیازی کیساتھ تیس ہزار لوگ تھے. ہتھیار ڈالنے کی رسمی تقریب جنرل جیکب فرانز جیکب کے سامنے منعقد ہونی تھی. تاہم وہ یہودی تھا اور ایک مسلمان کی یہودی کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے عالم اسلام کی ناراضگی کا خدشہ تھا. اسلئے اس نے خود سکھ جنرل اروڑہ کو تقریب کے میر مجلس ھونے کو ترجیح دی.

مصنف نے امریکی حکومت کو بنگال سے معافی مانگنے کا مشورہ دیا ہے اور لکھا ہے کہ بنگال کے مسلمانوں کا حقیقی قاتل پنجاب اور جماعت اسلامی کے مسلمان ہیں ان کو تو باقاعدہ blood money یعنی دیت یا خونبہا دینی ہوگی.

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے